aiik mushkil sawal

 

قرآن سے دلیل:

  1. سورۃ الحشر (59:10) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    • رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْۭ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
      ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ، بے شک تو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔"

اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے لیے، اپنے بھائیوں کے لیے، اور ان مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں جو پہلے ایمان لا چکے ہیں۔

حدیث سے دلیل:

  1. صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    • "جب بھی کوئی مسلمان دوسرے مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے کہتے ہیں: 'آمین، اور تمہارے لیے بھی مغفرت ہو۔'"
      (صحیح مسلم، کتاب الدعوات)

یہ حدیث بھی واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرنے کا حکم ہے، اور اس دعا کا فائدہ دعا کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔

نماز میں دعا:

مسلمان نماز میں تشہد اور درودِ ابراہیمی کے بعد خصوصی دعائیں مانگ سکتے ہیں۔ ایک مشہور دعا ہے جو نماز میں مانگی جا سکتی ہے:

  • "اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات الأحياء منهم والأموات"
    ترجمہ: "اے اللہ! مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، زندہ اور فوت شدہ سب کو بخش دے۔"

اس دعا میں تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کی جاتی ہے، چاہے وہ گزر چکے ہوں یا آنے والے ہوں۔