بدعت (Innovation) کا مطلب دین میں کوئی نئی چیز داخل کرنا ہے جو قرآن، حدیث یا شریعت کے اصولوں سے ثابت نہ ہو۔ اسلام میں بدعت کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا عمل جو دین میں شامل نہ ہو، اُسے دین کا حصہ سمجھ کر اپنانا یا عمل کرنا۔ بدعت کو دین میں ناپسندیدہ اور مذموم قرار دیا گیا ہے۔
بدعت کی وضاحت قرآن اور حدیث سے:
1. قرآن مجید میں بدعت کے بارے میں رہنمائی:
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اور اس میں کسی کمی یا اضافے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے جو بھی شخص دین میں نیا عمل شامل کرتا ہے، وہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
2. حدیث میں بدعت کے بارے میں رہنمائی:
نبی کریم ﷺ نے بدعت کے بارے میں کئی احادیث میں سخت الفاظ استعمال کیے ہیں:
- "مَن أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ منه فَهو رَدٌّ"(صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)ترجمہ: "جو شخص ہمارے دین میں کوئی نیا عمل داخل کرے، جو اس میں سے نہیں، وہ عمل مردود ہے (یعنی قبول نہیں کیا جائے گا)۔"
- "كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ"(سنن ابوداؤد: 4607)ترجمہ: "ہر نیا کام (جو دین میں ایجاد کیا جائے) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
3. بدعت کی اقسام:
اسلامی علماء نے بدعت کی دو اقسام بیان کی ہیں:
- بدعتِ حسنہ (اچھی بدعت):یہ وہ نیا عمل ہے جو دین کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو اور لوگوں کے فائدے کے لیے ہو، جیسے کہ قرآن و حدیث کی کتابیں لکھنا، مدرسے قائم کرنا، دین کی تعلیم کو عام کرنے کے نئے طریقے اپنانا وغیرہ۔
- بدعتِ سیئہ (بری بدعت):یہ وہ نیا عمل ہے جو دین میں بغیر دلیل کے شامل کیا جائے اور اسے دین کا حصہ سمجھا جائے، جیسے نماز، روزہ، حج یا دیگر عبادات میں نئے طریقے ایجاد کرنا۔
4. بدعت کرنے والے کا انجام:
بدعت کرنے والے شخص کا انجام اسلام کی تعلیمات کے مطابق برا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بدعت کے بارے میں یہ بھی فرمایا:
- "مَنِ ابْتَدَعَ بدعةَ ضلالَةٍ، لم يَزَل في سَخَطِ اللهِ حتَّى يَدَعَها"(الطبرانی، المعجم الكبير)ترجمہ: "جو شخص گمراہی والی بدعت ایجاد کرتا ہے، وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا جب تک اسے چھوڑ نہ دے۔"
5. کیا عمل کرنے سے انسان بدعتی کہلائے گا؟
اگر کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جو قرآن، حدیث اور دین کی تعلیمات سے متصادم ہو اور وہ اسے دین کا حصہ سمجھ کر اپناتا ہے، تو وہ بدعتی کہلائے گا۔ مثال کے طور پر:
- ایسی نئی عبادت ایجاد کرنا جو شریعت میں ثابت نہ ہو۔
- دین میں نئی رسومات شامل کرنا، جن کی کوئی اصل قرآن یا سنت میں نہ ہو۔
خلاصہ:
- بدعت دین میں کوئی نیا عمل یا عقیدہ شامل کرنا ہے جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔
- قرآن میں واضح ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اس میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں۔
- احادیث میں بدعت کو گمراہی اور مردود قرار دیا گیا ہے۔
- بدعت کی دو اقسام ہیں: اچھی بدعت (جو دین کی مخالفت نہ کرے) اور بری بدعت (جو دین میں بغیر دلیل کے شامل کی جائے)۔
- بدعت کرنے والے شخص کا انجام برا ہے اور وہ اللہ کی ناراضی میں رہے گا جب تک وہ بدعت کو نہ چھوڑ دے۔
ضروری ہے کہ ہر عمل قرآن اور سنت کے مطابق ہو، اور بدعات سے بچا جائے تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل ہو سکے۔
You said:
ChatGPT said:
یہ سوال جو بعض لوگ اٹھاتے ہیں، دراصل دین اور اس کی تعلیمات کی مکمل تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں اسلام کی بنیادیں ہیں اور دونوں کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیا جا سکتا ہے۔
1. قرآن اور حدیث کا تعلق اور ضرورت:
قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا اور یہ تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ لیکن قرآن میں بہت سی باتیں اجمالی طور پر بیان کی گئی ہیں جن کی تفصیل نبی کریم ﷺ کی احادیث میں موجود ہے۔
حدیث نبی کریم ﷺ کی قولی، عملی، اور تقریری سنت کو کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ کی احادیث قرآن کی وضاحت کرتی ہیں اور ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ قرآن کی تعلیمات پر کس طرح عمل کیا جائے۔
2. قرآن میں حدیث کی ضرورت اور مقام:
قرآن خود نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نبی ﷺ کے اقوال، اعمال اور احادیث کو ماننا بھی ضروری ہے۔
1. اللہ تعالیٰ کا حکم:
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ نبی ﷺ کے احکام اور تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے۔ یہ احکام اور تعلیمات ہمیں حدیث میں ملتی ہیں۔
2. نبی ﷺ کو قرآن کی وضاحت کے لیے بھیجا گیا:
اس آیت سے واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ کو قرآن کی وضاحت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ یعنی نبی ﷺ کی حدیث قرآن کے اجمالی احکام کی تشریح اور وضاحت کرتی ہے۔
3. حدیث کا مقام اور اہمیت:
حدیث نبی ﷺ کے اقوال اور اعمال کو بیان کرتی ہے اور انہی کے ذریعے ہمیں قرآن کی عملی تعلیمات معلوم ہوتی ہیں۔ قرآن خود نبی ﷺ کی پیروی کو لازم قرار دیتا ہے:
یہ آیت بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی پیروی اور ان کی تعلیمات (احادیث) کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔
4. حدیث اور قرآن کا عملی اطلاق:
قرآن میں کئی احکام ہیں جن کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر:
1. نماز کا حکم:
قرآن میں نماز کا حکم دیا گیا ہے:
لیکن قرآن میں نماز کے طریقے، رکعات کی تعداد، اور وقت وغیرہ کی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ تمام چیزیں حدیث میں موجود ہیں۔ اگر کوئی صرف قرآن کو لے کر نماز پڑھنا چاہے، تو وہ یہ نہیں جان سکتا کہ نماز کیسے پڑھی جائے۔
2. زکوٰۃ کا حکم:
قرآن میں زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے:
لیکن قرآن میں زکوٰۃ کی تفصیلات، اس کا نصاب، اور دیگر اہم باتیں نہیں دی گئی ہیں۔ یہ تمام تفصیلات حدیث میں موجود ہیں۔
5. حدیث قرآن میں کیوں نہیں؟
حدیث قرآن کا حصہ نہیں ہے کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو وحی کی صورت میں نازل ہوا۔ جبکہ حدیث نبی کریم ﷺ کے اقوال اور اعمال ہیں، جو اللہ کی طرف سے دی گئی حکمت کے مطابق ہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں الگ الگ وحی کی صورتیں ہیں:
- قرآن وحیِ متلو ہے، یعنی وہ وحی جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی اور جسے تلاوت کیا جاتا ہے۔
- حدیث وحیِ غیر متلو ہے، یعنی وہ وحی جو نبی ﷺ کو دی گئی، لیکن جسے قرآن کی طرح تلاوت نہیں کیا جاتا۔
اللہ تعالیٰ نے دونوں کو مختلف مقاصد کے لیے نازل کیا ہے اور ان دونوں کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے۔
6. حدیث کے انکار کا انجام:
جو لوگ حدیث کو نہیں مانتے، وہ دین کے بہت سے احکام کو سمجھنے اور اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا:
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں واضح کیا کہ حدیث بھی دین کا حصہ ہے، اور اسے چھوڑنے والا گمراہی میں پڑ سکتا ہے۔
خلاصہ:
- قرآن اور حدیث دونوں دین کے لیے ضروری ہیں، اور قرآن خود نبی ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔
- حدیث قرآن کی تشریح اور وضاحت کرتی ہے، اور دین کے بہت سے عملی پہلو ہمیں حدیث سے ہی معلوم ہوتے ہیں۔
- حدیث کو نہ ماننے والا شخص قرآن کے بہت سے احکام پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کر سکتا۔
اس لیے جو لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مکمل ہے تو حدیث کی ضرورت کیوں ہے، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حدیث دراصل قرآن کی تفصیل اور تشریح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔