قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ نبی ﷺ غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے ہی جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نبیوں کو مخصوص غیبی باتوں کی خبر دیتا ہے، مگر نبی کریم ﷺ کے پاس ذاتی طور پر غیب کا علم نہیں تھا۔ آپ ﷺ کو جو بھی علم ملا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے ملا۔ قرآن کی مختلف آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ خود سے غیب نہیں جانتے، اور جو بھی غیب کی بات بتاتے ہیں، وہ صرف اللہ کی طرف سے دی گئی ہوتی ہے۔
یہاں ان آیات کی ترتیب دی جا رہی ہے جو نبی ﷺ اور غیب کے علم کے حوالے سے وضاحت کرتی ہیں:
1. سورۃ الأنعام، آیت 50:
عربی متن: قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ
اردو ترجمہ: "آپ کہہ دیں کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔"
وضاحت:
اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی طرف سے یہ بات کہلوائی گئی کہ آپ ﷺ ذاتی طور پر غیب کا علم نہیں رکھتے اور صرف وہی باتیں جانتے ہیں جو وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو بتائی جاتی ہیں۔
2. سورۃ الأعراف، آیت 188:
عربی متن: قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اردو ترجمہ: "آپ کہہ دیں کہ میں اپنی ذات کے لیے نہ تو نفع کا مالک ہوں اور نہ نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں اکٹھی کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔"
وضاحت:
یہ آیت مزید اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ غیب کے علم کے مالک نہیں تھے اور اگر آپ ﷺ غیب جانتے ہوتے تو اپنی ذات کو نقصان سے بچا لیتے۔
3. سورۃ الجن، آیت 26-27:
اردو ترجمہ: "وہ غیب کا جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر جس رسول کو وہ پسند کرے، تو وہ اس کے آگے اور پیچھے نگرانی کرنے والے مقرر کر دیتا ہے۔"
وضاحت:
یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا علم کسی کو نہیں دیتا، سوائے اس رسول کے جسے وہ منتخب کرتا ہے، یعنی نبیوں کو غیب کا علم وحی کے ذریعے اللہ کی مرضی سے ملتا ہے۔
4. سورۃ آلِ عمران، آیت 179:
عربی متن: وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ
اردو ترجمہ: "اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے، لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے، منتخب کرتا ہے۔"
وضاحت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ عام لوگوں کو غیب کا علم نہیں دیا جاتا، بلکہ اللہ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو یہ علم عطا کرتا ہے۔
5. سورۃ الکہف، آیت 110:
عربی متن: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ
اردو ترجمہ: "کہہ دیں کہ میں تو صرف تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں، (ہاں) میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔"
وضاحت:
اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بشریت کو واضح کیا گیا ہے اور یہ کہ آپ ﷺ پر اللہ کی وحی آتی ہے۔ آپ ﷺ اپنی طرف سے کوئی غیب کی خبر نہیں دیتے، بلکہ وہ علم وحی کے ذریعے آپ کو دیا جاتا ہے۔
نتیجہ:
قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ذاتی طور پر غیب کا علم نہیں تھا۔ آپ ﷺ کو جو بھی غیبی باتیں معلوم ہوتی تھیں، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے دی گئی معلومات ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب رسولوں کو بعض غیبی باتیں بتائی ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ کو جو کچھ بھی غیب کا علم ملا، وہ اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے ملا، نہ کہ آپ ﷺ کی ذاتی حیثیت سے۔