My New Research About Murde Zinda karne wale Mojze or Qudrat

 قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور مدد کے لیے صرف اُسی کو پکارنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگنے کو شرک قرار دیا گیا ہے، اور شرک ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

1. سورۃ الفاتحہ، آیت 4-5:

آیت: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

ترجمہ: "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے گی اور مدد بھی اسی سے طلب کی جائے گی۔

2. سورۃ یونس، آیت 106:

آیت: وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللّٰهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

ترجمہ: "اور اللہ کے سوا کسی ایسے کو نہ پکارو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان، اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔"

یہ آیت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لیے پکارنا ظلم ہے اور اس کا انجام بہت برا ہے۔

3. سورۃ الاحقاف، آیت 5-6:

آیت: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَافِلُونَ ﴿٥﴾ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَّكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ ﴿٦﴾

ترجمہ: "اور اُس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے سوا اُن کو پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اُسے جواب نہ دے سکیں گے اور وہ اُن کی پکار سے بے خبر ہیں۔ جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اُن کے دشمن ہو جائیں گے اور اُن کی عبادت سے انکار کریں گے۔"

یہ آیات بتاتی ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کے سوا جسے بھی مدد کے لیے پکارا جائے گا، وہ انکار کر دے گا اور ان کا دشمن بن جائے گا۔

4. سورۃ الزمر، آیت 3:

آیت: أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ

ترجمہ: "خبردار! خالص دین اللہ کا حق ہے، اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوست بنائے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، تو اللہ قیامت کے دن اُن کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کسی کو اللہ کے قریب کرنے کے لیے یا مدد کے لیے پکارنا سراسر گمراہی ہے۔

5. سورۃ المؤمنون، آیت 117:

آیت: وَمَن يَدْعُ مَعَ اللّهِ إِلٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ

ترجمہ: "اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارے، جس کے لیے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں، تو اُس کا حساب اُس کے رب کے پاس ہوگا، اور بے شک کافر کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔"

یہ آیت اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنا کفر ہے اور اس کا انجام تباہی ہے۔

خلاصہ:

قرآنِ پاک میں اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لیے پکارنا شرک اور گمراہی قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لیے پکارتے ہیں، وہ قرآن کے مطابق ظالم اور کافر ہیں اور ان کا انجام جہنم ہے

بریلوی مسلک میں جو واقعہ مشہور ہے، وہ حضرت غوث پاک (شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ) کے حوالے سے "غوث پاک اور دھوبی" کا قصہ ہے۔ یہ واقعہ عوامی سطح پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن اس کی کوئی بنیاد نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی احادیث میں۔ عام طور پر یہ واقعہ کچھ یوں سنایا جاتا ہے:

واقعہ کا خلاصہ: بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ ایک دن راستے سے گزر رہے تھے اور انہوں نے ایک دھوبی کو دیکھا جو لوگوں کے کپڑے دھو رہا تھا۔ اچانک دھوبی کا بیٹا پانی میں ڈوب گیا۔ دھوبی نے حضرت غوث پاک سے مدد کی درخواست کی۔ حضرت غوث پاک نے دعا کی اور اللہ کے حکم سے دھوبی کا بیٹا زندہ ہو کر پانی سے باہر آگیا۔

حقیقت اور دینی بنیاد:

یہ واقعہ کسی مستند اسلامی کتاب میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی قرآن و حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ یہ عوامی کہانی ہے، جس کی شرعی طور پر کوئی اصل نہیں ہے۔

قرآن و سنت کے مطابق: اسلام میں کسی نبی، ولی، یا بزرگ سے براہ راست مدد مانگنا جائز نہیں ہے۔ مدد کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جانا چاہیے، جیسا کہ سورۃ الفاتحہ اور دیگر آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ"
ترجمہ: "جب تم سوال کرو (مدد مانگو)، تو اللہ سے مانگو اور جب تم مدد چاہو، تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔"
(ترمذی: 2516)

نتیجہ:

بریلوی مسلک میں بیان کیے جانے والے اس طرح کے واقعات عوامی کہانیوں پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں ہے۔ ان واقعات پر اعتماد کرنے کے بجائے، مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہیے-


قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نبی، ولی، صحابی یا اہلِ بیت میں سے کوئی بھی شخص مردوں کو زندہ کرنے یا اپنی مرضی سے زندہ اور مردہ ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک اور حاکم ہے، اور وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے۔

قرآن کی آیات:

  1. سورۃ یٰسین، آیت 82: آیت: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

    ترجمہ: "جب وہ (اللہ) کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے صرف اتنا کہتا ہے کہ 'ہو جا'، تو وہ ہو جاتی ہے۔"

    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حکم سے ہی کوئی چیز وجود میں آتی ہے، چاہے وہ زندگی دینا ہو یا موت۔

  2. سورۃ النحل، آیت 70: آیت: وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ

    ترجمہ: "اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو بدترین عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانے۔ یقیناً اللہ علم والا اور قدرت والا ہے۔"

    یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ موت اور زندگی کا اختیار اللہ کے پاس ہے، اور کوئی انسان اس میں دخل نہیں دے سکتا۔

  3. سورۃ الزمر، آیت 44: آیت: قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

    ترجمہ: "کہہ دو: تمام شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔"

    یہ آیت بتاتی ہے کہ شفاعت (سفارش) اور قدرت اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں۔

  4. سورۃ المومنون، آیت 80: آیت: وَهُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَلَهُ اخْتِلَافُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

    ترجمہ: "اور وہی ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے، اور رات اور دن کی گردش اسی کے اختیار میں ہے۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"

    اس آیت میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ زندگی اور موت دینا صرف اللہ کا اختیار ہے۔

احادیث کی روشنی میں:

  1. صحیح بخاری، حدیث 2856: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ..."
    (پانچ چیزیں ہیں جن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، ان میں سے ایک موت کا وقت ہے)

    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ موت اور زندگی کا علم اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

  2. صحیح مسلم، حدیث 1927: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً تَقْبِضُ أَرْوَاحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ"
    (قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ ایک خوشبو دار ہوا نہ بھیجے جو ہر مومن کی روح قبض کرے گی)

    یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ روح کو قبض کرنے اور زندگی دینے کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن میں ذکر ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے، لیکن یہ قدرت اللہ کے حکم سے تھی، نہ کہ ان کی ذاتی طاقت سے۔

  1. سورۃ آل عمران، آیت 49: آیت: وَأُحْيِـۧ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ

    ترجمہ: "اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔"

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ قدرت ان کی ذاتی نہیں تھی بلکہ اللہ کے حکم سے تھی۔

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں عقیدہ:

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے ولی اللہ تھے، لیکن ان کے بارے میں جو عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتے تھے یا اپنی مرضی سے زندہ اور مردہ ہو جاتے تھے، یہ سراسر غیر اسلامی اور غیر شرعی عقیدہ ہے۔

اسلام میں اولیاء اللہ کی کرامات کا عقیدہ ضرور ہے، لیکن کرامات بھی اللہ کے حکم اور مرضی سے ہوتی ہیں۔ کوئی ولی اپنی مرضی سے مردوں کو زندہ کرنے یا مرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

قرآن و حدیث کا خلاصہ:

  • اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے پاس موت اور زندگی دینے کا اختیار نہیں ہے۔
  • جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی ولی یا نبی اپنی مرضی سے زندہ یا مردہ ہو سکتا ہے یا مردے زندہ کر سکتا ہے، وہ غلط ہیں اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔
  • ایسے عقیدے کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توحید کی حقیقت اور اللہ کی حاکمیت کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔

انتباہ:

کسی بھی شخص کے بارے میں غیر اسلامی عقیدہ رکھنا شرک کے قریب لے جا سکتا ہے، اور شرک وہ گناہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ معافی نہیں دے گا جب تک بندہ اس سے توبہ نہ کرے۔


بریلوی عقائد میں موجود بہت سے ایسے نظریات ہیں جو قرآن اور حدیث کے مقابلے میں افراط و تفریط پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے کہ اولیاء کرام کو اللہ کی صفات کے برابر مقام دینا، ان سے مدد مانگنا، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اپنی مرضی سے مردے زندہ کر سکتے ہیں یا اپنی مرضی سے زندہ اور مردہ ہو سکتے ہیں۔

آپ جس بھائی یا فرد کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے ذریعے توحید کا پیغام واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کی مکمل طاقت و قدرت کے عقیدے کو مضبوط کرنا ان لوگوں کو صحیح راستے پر لے جا سکتا ہے۔

قرآن کی آیات جو توحید پر دلالت کرتی ہیں:

  1. سورۃ الفاتحہ، آیت 5: آیت: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

    ترجمہ: "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت اور مدد طلب کرنا صرف اللہ سے جائز ہے، اور کسی اور سے مدد طلب کرنا شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  2. سورۃ یونس، آیت 106: آیت: وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    ترجمہ: "اور اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو جو نہ تمہیں نفع دے سکتا ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے، اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔"

    اس آیت میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لیے پکارنے کو شرک اور ظلم کہا گیا ہے۔

  3. سورۃ الزمر، آیت 3: آیت: أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلْخَالِصُ ۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلْفَىٰٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِى مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَـٰذِبٌۭ كَفَّارٌۭ

    ترجمہ: "خبردار! خالص دین صرف اللہ کے لیے ہے، اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ اوروں کو اولیاء بنا لیا (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ جھوٹے اور ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا۔"

    اس آیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو وسیلہ بنانا، چاہے وہ ولی ہو یا نبی، ایک غلط عمل ہے۔

  4. سورۃ الأعراف، آیت 197: آیت: وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

    ترجمہ: "اور جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔"

    یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک مضبوط دلیل ہے جو اولیاء یا نبیوں سے مدد مانگتے ہیں۔

حدیث کی تعلیمات:

  1. صحیح بخاری، حدیث 5977: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو، اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو"

    اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے صاف طور پر یہ تعلیم دی ہے کہ مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے، اور اسی سے امید رکھی جائے۔

  2. صحیح مسلم، حدیث 1978: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کہاں ہیں وہ لوگ جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا، آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا"

    اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کی جانے والی محبت اور تعلق سب سے افضل ہے، اور وہی انسان کو نجات دیتا ہے۔

  3. صحیح بخاری، حدیث 3430: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میری سنت کو چھوڑا، وہ مجھ سے نہیں ہے"

    یہ حدیث ان لوگوں کو یاد دلاتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ کر دوسرے راستے اختیار کرتے ہیں۔

سیدھی راہ پر رہنے کا پیغام:

  • سورۃ الانعام، آیت 153: آیت: وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

    ترجمہ: "اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، تو تم اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹا دیں گے۔ یہ تمہیں اس کا حکم دیا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"

    یہ آیت صاف طور پر لوگوں کو سیدھے راستے یعنی قرآن اور سنت پر چلنے کی تعلیم دیتی ہے۔

خلاصہ:

  • اللہ کے علاوہ کسی کو مدد کے لیے پکارنا شرک کے قریب ہے۔
  • اولیاء یا نبیوں کو اللہ کی صفات میں شریک ٹھہرانا گمراہی ہے۔
  • مدد صرف اللہ سے مانگنی چاہیے، اور تمام مسائل کا حل قرآن اور سنت میں ہے۔

یہ تمام دلائل آپ کے دوست کو درست عقیدے کی طرف لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مردے زندہ کرنے کی صلاحیت کا تعلق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے، اور یہ ایک خاص معجزہ تھا جو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے عطا کیا گیا تھا۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس عقیدے کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ زندگی اور موت دینا صرف اللہ کا اختیار ہے اور کسی نبی یا ولی کو اپنی مرضی سے یہ اختیار نہیں دیا گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے بارے میں قرآن کی آیات:

  1. سورۃ آل عمران، آیت 49: آیت: وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِيٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    ترجمہ: "اور (بنی اسرائیل کے لیے) رسول بنا کر بھیجا جو کہے گا کہ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں، میں مٹی سے پرندے کی شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے، اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں، اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو، تمہیں بتا دیتا ہوں۔"

    اس آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو معجزات کرتے تھے، وہ اللہ کے حکم سے تھے، اپنی مرضی سے نہیں۔

  2. سورۃ المائدہ، آیت 110: آیت: إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱذْكُرْ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًۭا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِى وَتُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِى

    ترجمہ: "جب اللہ فرمائے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! تم اپنی اور اپنی والدہ پر میری نعمت یاد کرو، جب میں نے روح القدس سے تمہیں قوت دی، تم گود میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے، اور جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی، اور جب تم مٹی سے پرندے کی شکل بناتے تھے اور اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے شفا دیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔"

    یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو مردے زندہ کرتے تھے، وہ اللہ کے حکم سے تھا۔

مردے زندہ کرنے کی طاقت کا اللہ کے سوا کسی کو نہ ہونا:

  1. سورۃ البقرۃ، آیت 258: آیت: أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِيمَ فِى رِبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    ترجمہ: "کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، کیونکہ اللہ نے اسے بادشاہت دی تھی؟ جب ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، تو اس نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا: بے شک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکالو! تو وہ کافر حیران رہ گیا، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔"

    یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واضح کیا کہ زندگی اور موت کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے۔

  2. سورۃ الزمر، آیت 42: آیت: ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

    ترجمہ: "اللہ ہی روحوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے، اور جو نہیں مریں ان کی روحیں نیند میں قبض کرتا ہے، پھر جن کی موت کا فیصلہ کر چکا انہیں روک لیتا ہے، اور باقی روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔"

    اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ روحوں کو قبض کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، اور موت و زندگی صرف اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔

حدیث سے دلائل:

  1. صحیح بخاری، حدیث 3277: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟"

    اس حدیث میں اللہ تعالیٰ اپنی واحدانیت اور قدرت کا ذکر کرتا ہے، اور زمین کے تمام بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کی عاجزی کو ظاہر کرتا ہے۔

اب ہم ان احادیث اور آیات کو مزید تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو اس عقیدے کو رد کرتی ہیں کہ اولیاء یا کسی بھی غیر نبی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مردے زندہ کرنے یا موت دینے کا اختیار ہے۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ مردے زندہ کرنے کا معجزہ اللہ تعالیٰ کا خاص حکم اور قدرت ہے اور یہ عام طور پر نبیوں کو عطا ہوتا تھا۔

مزید قرآنی دلائل:

  1. سورۃ المؤمنون، آیت 80: آیت: وَهُوَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَلَهُ ٱخْتِلَـٰفُ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

    ترجمہ: "اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور رات اور دن کا الٹ پھیر اسی کے ہاتھ میں ہے، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"

    اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ زندگی اور موت کا اختیار صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔

  2. سورۃ یٰس، آیت 12: آیت: إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَءَاثَـٰرَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ فِىٓ إِمَامٍۢ مُّبِينٍ

    ترجمہ: "بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے نشانات کو لکھتے ہیں، اور ہر چیز کو ہم نے ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔"

    یہاں بھی بتایا گیا کہ اللہ ہی مردے زندہ کرتا ہے۔

احادیث سے مزید دلائل:

  1. صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث 7383: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے معاذ! تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟" میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔

    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا اور اسی سے مدد مانگی جانی چاہیے۔

  2. سنن ابوداؤد، حدیث 4739: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "موت کے بعد زندگی کا مالک صرف اللہ ہے، اور مردوں کو زندہ کرنا اللہ کی قدرت میں ہے۔"

    اس حدیث میں صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مردے زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اور اس معاملے میں کسی بھی مخلوق کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

قرآن کی مزید آیات:

  1. سورۃ الزمر، آیت 44: آیت: قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَـٰعَةُ جَمِيعًۭا ۖ لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

    ترجمہ: "کہہ دو کہ شفاعت سب اللہ کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔"

    اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام معاملات کا مالک ہے، اور شفاعت بھی اسی کے اختیار میں ہے۔

خلاصہ:

ان دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مردے زندہ کرنے کی صلاحیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے عطا کی گئی تھی اور یہ ایک معجزہ تھا۔ کسی اور نبی، ولی، یا صحابی کو یہ اختیار نہیں دیا گیا، اور جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عبدالقادر جیلانی یا دیگر اولیاء کو مردے زندہ کرنے کا اختیار ہے، وہ قرآن اور حدیث کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔

قرآن کی تمام آیات اور احادیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور کوئی مخلوق اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔